وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ ہماری آزادی اور آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا مقصد اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچے گا کہ جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام ہندوستان کے جبر اورقبضہ سے آزاد ہوں گے، آج ہمارے لیے سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے۔آج آزاد کشمیر کا یوم تاسیس ہم گذشتہ سالوں کی نسبت زیادہ جوش و خروش اور فخر سے منا رہے ہیں، آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان کی شاندار کامیابی نے سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کے عوام کو نہ صرف خوشی بخشی ہے بلکہ ان کے قلوب میں حریت کی منزل کے حصول کی خاطر ایک نئے جذبہ و جنون نے جنم لیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کا یہ خطہ ہمارے اسلاف کی لازوال قربانیوں سے آزاد ہوا، یہ آزادی صرف سفاک ڈوگرہ حکومت سے نہیں تھی بلکہ آزاد کشمیر کے لوگوں نے ہندوستان کی افواج کا راستہ بھی روکا۔ 13 جولائی 1931 کو ریاست جموں و کشمیر کے 22 مسلمانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر ڈوگرہ استبداد کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے 78ویں یوم تاسیس کی مرکزی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا کہ جب تقسیم برصغیر کے منصوبے کا اعلان ہوا تو کانگریس کی قیادت نے ریاست جموں و کشمیر جو مسلم اکثریتی ریاست تھی اس کو ہتھیانے کے لیے مہاراجہ ہری سنگھ کی معاونت سے ساز باز کی۔ 19 جولائی 1947 کو ریاستی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی۔مہاراجہ نے مسلمانوں کو غیر مسلح کرنا شروع کر دیا اور ان سے ہتھیار لیکر غیر مسلم لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ کشمیری مسلمانوں کو احساس ہو گیا تھا کہ مہاراجہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا خواہاں ہے تو انہوں نے جون 1947 سے عملی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔17 اکتوبر 1947 کو ہندوستان نے پٹیالہ فورسز ریاست جموں و کشمیر میں بھیج دیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے نہ صرف ڈوگرہ افواج کا مقابلہ کیا بلکہ ہندوستان کی فوج کا بھی مقابلہ کیا۔میں ان قبائلی اور خیبرپختونخوا کے مجاہدین کو جو ہماری درخواست پر ہماری مدد کے لیے آئے اور جنگ آزاد کشمیر 1947 سے 1949 میں حصہ لیا ان سب کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ نومبر 1947 میں جموں میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی کے ایک انسانیت سوز واقعہ میں ہندوستان کی فوج، ڈوگرہ فورسز اور آر۔ایس۔ ایس کے جتھوں نے جموں کے تقریباً 3 لاکھ باشندوں کو تہہ و تیغ کیا۔ عزت مآب بیٹیاں اغوا کر لی گئیں ، مسلمانوں کی جائیدادیں تباہ کر دی گئیں اور لاکھوں لوگوں کو پاکستان کی طرف ہجرت پر مجبورکر دیا گیا۔ اس موقع پر میں ان پاکستانی بھائیوں کو بھی ہدیہ سپاس پیش کروں گا جنہوں نے ان مہاجرین کو نہ صرف اپنے سینے سے لگایا بلکہ باعزت مقام بھی دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہمارے لیے سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے، بے شک جو لوگ شکر ادا نہیں کرتے ان سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ 1947 سے قبل آزادکشمیر کا یہ خطہ پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ آج الحمد اللہ آزادکشمیر ہر شعبہ میں ترقی کر رہا ہے۔ اس خطہ میں 1947 میں صرف ایک انٹر کالج تھا اور آج 6 پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اور 3 میڈیکل کالجز ہیں۔ اس طرح ہر سیکٹر میں بے مثال ترقی ہوئی۔ آج آزاد کشمیر میں انسانی آزادیوں کی صورتحال مثالی ہے، آزادکشمیر میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں ایک آزاد عدالتی نظام موجود ہے۔ ہم نہ صرف آزاد جموں و کشمیر بلکہ پاکستان بھر میں بھی اسی طرح حقوق رکھتے ہیں جس طرح پاکستان کے کسی علاقہ کا کوئی فرد۔ چوہدری انوارالحق نے کہا کہ آج کا دن افواج پاکستان کو بھی ہدیہ تبریک پیش کرنے کا دن ہے۔ افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس خطہ کی آزادی کی حفاظت کی اور کر رہی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والی پہلی شخصیت کیپٹن سرور شہید نے آزاد کشمیر میں اوڑی سیکٹر میں تل پترا کے مقام پر جام شہادت نوش کیا۔ آزاد کشمیر کا یہ خطہ کسی حادثہ کے نتیجے میں آزاد نہیں ہوا نہ کسی نے تحفہ کے طور پر دیا بلکہ یہ یہاں کے عوام، قبائلی مجاہدین اور افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔میں جدوجہد آزادی کشمیر کے جملہ شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص اور معرکہ حق نے دنیا کی جنگی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا۔پاکستان نے اپنے سے کئی بڑے ملک ہندوستان کو بری، بحری، فضائی، سفارتی، سائبر اور حکمت عملی سمیت تمام محاذوں پر شکست دی۔ اس کامیابی نے جہاں ہندوستان کے تکبر کو خاک میں ملایا وہاں پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت میں بھی اضافہ کر دیا۔اس کامیابی کا کریڈٹ افواج پاکستان اور خصوصی طور پر ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے۔ جن کی مدبرانہ، مومنانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف داخلی محاذ پر بلکہ تمام بیرونی محاذوں پر پاکستان کے دشمنوں کو شکست ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری آزادی اور آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا مقصد اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچے گا جب مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام ہندوستان کے جبر اورقبضہ سے آزاد ہوں گے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں گزشتہ 35 سالوں میں ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو شہید کیا گیا، عفت مآب بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں نوجوان اور حریت قیادت پابند سلاسل ہے۔ ہندوستان ظلم کے تمام ہتھکنڈے اپنانے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکا۔آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کی ہیئت کو بدلا جا رہا ہے۔ ہندوستان سے لا کر لوگ کشمیر میں آباد کیے جا رہے ہیں تاکہ کشمیرمیں نہ صرف مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جائے بلکہ کشمیر کی تہذیب اور ثقافت بھی بدل دی جائے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ہم حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے لیکر ہر فورم پر کشمیریوں کو حق خودارادیت کے استعمال کا موقع دینے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ہمیں قابض اور محافظ فوج کے فرق کو بھی سمجھنا ہے۔ افواج پاکستان نہ صرف ہماری جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ آزاد کشمیر کے شہریوں کے جان، مال، عزت اور حرمت کی بھی حفاظت کر رہی ہیں۔ سیز فائر لائن کی دوسری طرف قابض افواج سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی نہ جان محفوظ ہے، نہ مال اور نہ ہی عزت و حرمت۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے زعماء کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آزاد کشمیر حکومت مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔ میں تحریک آزادی کشمیر کے تمام شہدا کو اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جرآت بہادری اور استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انشا ء اللہ وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کی منزل حاصل کریں گے اور ہم سب مل کر پاکستان کی تکمیل کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔